ادیب سہارنپوری … ترے نام کی تھی جو روشنی, اسے خود ہی تونے بجھا دیا

ترے نام کی تھی جو روشنی, اسے خود ہی تونے بجھا دیا
نہ جلاسکی جسے دھوپ بھی, اُسے چاندنی نے جلادیا

میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا, مجھے آپ اپنی خبر نہیں
وہ شخص تھا مرا رہنما , اُسے راستوں میں گنوادیا

جسے تو نے سمجھا رقیب تھا , وہی شخص تیرا نصیب تھا
ترے ہاتھ کی وہ لکیر تھا, اسے ہاتھ سے ہی مٹادیا

مری عمر کا ابھی گلستان ,تو کھلا ہوا ہے ضرور پر!
وہ پھول تھے تری چاہ کے، انھیں موسموں نے گرا دیا

Related posts

Leave a Comment